Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کی طرف سے قربانی کے گوشت کا حکم
- Fatwa no.
- 174-Book
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اپنی قربانی کے علاوہ جو قربانی کسی میت مثلا والدین و غیر ھما کی طرف سے کی جاتی ہے، تو کیا اس کا گوشت خود بھی کھاسکتے ہیں یاسب صدقہ کرنا واجب ہے ؟
Answer (beginning)
میت کی طرف سے جو قربانی کی جاتی ہے، اس میں بھی اپنی قربانی کی طرح تین حصے کرنا افضل ہے، ایک حصہ فقراء ومساکین کے لیے ، دوسراحصہ اپنے دوست و احباب اور رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا اپنے گھر والوں کے لیے، البتہ اگر سارار کھ لے تو بھی جائز ہے ، ہاں اگر میت نے فوت ہونے سے پہلے وصیت کی تھی، تو سارا صدقہ کر دے، خودنہ کھائے، جیسا کہ علامہ محمد امین ابن عابدین شامی قدس سره السامی لکھتے ہیں: ” من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.