Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قربانی کے جانور کے خون کا حکم؟
- Fatwa no.
- 173-Book
- Issued
- 02 محرم الحرام 1440ھ / 13 ستمبر 2018ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں کہ: (1) ذبح کے وقت قربانی کے جانور کا جو بہت خون نکلتا ہے، کیا وہ ناپاک ہوتا ہے؟ (2) کیا دودھ پیتے بچے کا پیشاب ناپاک ہے ؟
Answer (beginning)
(1) دیگر جانوروں کے خون کی طرح قربانی کے جانور کا بہتا خون بھی ناپاک ہے۔ الله تبارك و تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿ قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَى مُحَرَّ مَّا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُةُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْس الخ ) ترجمہ : تم فرماؤ میری طرف جو وحی کی جاتی ہے اس میں کسی کھانے والے پر میں کوئی کھانا حرام نہیں پاتا، مگر یہ کہ مردار ہو یار گوں میں بہنے والا خون ہو یا سور کا گوشت ہو، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔ (پارہ 8، سورۃ الانعام، آیت 145) بہارِ شریعت میں ہے: "خشکی کے ہر جانور کا بہتا خون مردار کا گوشت اور چربی۔۔ یہ سب نجاست غلیظہ ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.