Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ذبح کرتے وقت اگر گردن الگ ہو جائے تو قربانی کا حکم؟

Fatwa no.
172-Book

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کے جانور مثلاً بکرے کو ذبح کرتے ہوئے اس کی چار رگیں کاٹی گئیں ، لیکن اس کا سر بھی جد اہو گیا، تو کیا ایسے جانور کی قربانی ہو جائے گی ؟ نیز اس جانور کا گوشت کھانا کیسا ؟ سائل: انصر عباسی (مری)

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں ذبح شرعی پائے جانے کی وجہ سے قربانی ہو جائے گی، جبکہ وہ جانور قربانی کے شرعی معیار پر پورا اترتا تھا اور اس جانور کا گوشت کھانا بھی بلاشبہ جائز ہے ، البتہ جانور کو اس طرح ذبح کرنا کہ اس کا سرکٹ کر جد اہو جائے، یہ فعل ضرور مگر وہ ہے ، مگر یہ کراہیت گوشت میں سرایت نہیں کرتی۔ ہدایہ شریف میں ہے: ” ومن بلغ بالسكين النخاع او قطع الراس كره له ذلک و توکل ذبيحته “ ترجمہ : جانور ذبح کرنے والا حرام مغز تک چھری لے گیا یا مکمل سر ہی کاٹ دیا، تو اس کا یہ فعل مکر وہ ہے، لیکن بہر حال اس کا ذبیحہ حلال ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.