Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کان میں سوراخ والے جانور کی قربانی کرنا کیسا؟

Fatwa no.
171-Book

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل منڈی میں جانور خرید نے جائیں، تو اکثر بیوپاریوں نے اپنے جانوروں کو مخصوص نشانیاں لگائی ہوتی ہیں، میں نے رات کو منڈی سے بیل خریدا، لیکن جب صبح دیکھا، تو اس جانور کے ایک کان میں تین چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے۔ میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ میرے لیے اس جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

مستحب یہ ہے کہ جانور کے کان، آنکھ ، ناک، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ بالکل صحیح اور عیب سے سلامت ہوں، اگر تھوڑا سا عیب ہو، تو قربانی مکر وہ، اگر زیادہ ہو، تو نا جائز اور پوچھی گئی صورت میں جس بیل کے کان میں تین سوراخ ہیں، اگر وہ مل کر تہائی کان کی مقدار یا اس سے کم ہیں اور کوئی دوسر امانع قربانی عیب بھی نہیں، تو ایسے جانور کی قربانی جائز تو ہے ، مگر مگر وہ وخلاف اولیٰ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.