Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا کان چیرا ہوا جانور کی قربانی جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 170-Book
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا جانور جس کا کان لمبائی میں چراہواہو ، لیکن بدن سے اترا ہوا نہ ہو، اس کی قربانی کرنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
ایسا جانور جس کا کان چر اہوا ہو، لیکن بدن سے اترا ہوا نہ ہو اس کی قربانی کرنا، جائز تو ہے، البتہ مستحب یہ ہے کہ ایسے جانور کی قربانی نہ کی جائے، بلکہ ایسے جانور کی قربانی کی جائے جو ہر طرح کے عیب سے پاک ہو ۔ جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے: ”تجزيئ الشرقاء وهي مشقوقة الاذن طولا والمقابلة ان يقطع من مقدم اذنها ولا يبان بل يترك معلقا والمدابرة ان يفعل ذلك بمؤخر الاذن من الشاة وما روى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يضحى بالشرقاء والمقابلة والمدابرة والخرقاء فالنهي في الشرقاء والمقابلة والمدابرة محمول على الندب “ترجمہ : شرقاء کی قربانی جائز ہے اور اس سے مراد وہ جانور ہے جس کے کان لمبائی میں چرے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.