Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سینگ کاٹے مگر جڑیں سلامت ہیں تو قربانی ہوگی؟
- Fatwa no.
- 169-Book
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بکرا جس کے پیدائشی سینگ ہیں، مگر اس کے سینگ جڑ کے اوپر سے سر کی کھال کے برابر کاٹ دیئے گئے ہیں، ان سینگوں کی جڑیں سلامت ہیں، اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ جبکہ اس میں قربانی کی دیگر تمام شرائط پوری ہیں۔
Answer (beginning)
اُس بکرے کی قربانی کرنا جائز ہے، کیونکہ اس کے سینگ اس طرح سے کاٹے گئے ہیں کہ جڑیں سلامت ہیں ، البتہ اگر جڑیں سلامت نہ رہتیں، تو قربانی نہ ہوتی۔ جب تک زخم نہ بھرتے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَل وَ رَسُولُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم عالم الافتا اهليت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net DaruliftaAhlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.