Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 168-Book
- Issued
- 26 ربیع الثانی 1438ھ / 25 جنوری 2017ء
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی نے قربانی کا ایسا جانور خرید ا جس کے سینگ جڑ سے نکال دیے گئے تھے ، پھر اس کا زخم بھر کر ٹھیک ہو گیا اور وہاں کھال جڑ کر مکمل ٹھیک ہو گئی ، تو اب کیا ایسے جانور کی قربانی ہو جائے گی ؟ سائل: محمد شریف (خداداد کالونی، کراچی)
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ تفصیل اس مسئلہ میں یہ ہے کہ جس جانور کا سینگ ٹوٹ گیا ہو اگر سر کے اوپر والا حصہ ٹوٹا ہو جو ظاہر ہوتا ہے، تو قربانی جائز ہے اور اگر سر کے اندر جڑ تک ٹوٹے، تو قربانی جائز نہیں، لیکن اس صورت میں اگر سر کا زخم بھر جائے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے ، تو اب قربانی جائز ہے۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ عَادَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم علام الاقناة اهليت BUNALETS APLEGIONE Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.