Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا خصی کئے گئے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے؟

Fatwa no.
167-Book

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا خصی جانور ، جس کا عضو کاٹ کر اُسے خصی کیا گیا ہو ، اس جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ سائل: محمد وقار عطاری ( جنڈ، اٹک )

Answer (beginning)

جی ہاں! ایسا خصی جانور جس کا عضو کاٹ کر اُسے خصی کیا گیا ہو، اس کی قربانی جائز ہے، کیونکہ اس کی کمی سے جانور میں کوئی عیب نہیں آتا، بلکہ اُس کا وصف بڑھ جاتا ہے کہ ایسے جانور کا گوشت زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ حضرت سید نا جابر رضی الله عنه فرماتے ہیں: "ذبح النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم يوم الذبح كبشين اقرنین املحین موجوئین “ ترجمہ: نبی پاک صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم نے قربانی کے دن دو سینگ والے، چت کبرے، خصی مینڈھوں کو ذبح فرمایا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.