Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایسی گائے کی قربانی جائز ہے جسکا ایک تھن خشک ہو؟
- Fatwa no.
- 164-Book
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسی گائے جس کا ایک تھن خشک ہو جائے اور اس میں سے دودھ نہ آئے ، لیکن بقیہ تین تھنوں سے دودھ آتا ہو ، اس کی قربانی کا کیا حکم ہے ؟ سائل: حافظ حمزہ عطاری (آزاد کشمیر)
Answer (beginning)
ایسی گائے، بھینس جس کا ایک تھن خشک ہو جائے، بقیہ تین تھن ٹھیک ہوں، تو ( دیگر شرائط کی موجودگی میں) اس کی قربانی جائز ہے، لیکن بہتر نہیں، کیونکہ قربانی کے لیے ایسا جانور قربان کرنا بہتر ہے جس میں معمولی عیب بھی نہ ہو۔ رد المحتار میں ہے: ” في الشاة والمعز اذالم يكن لهما احدى حلمتيهما خلقة او ذهبت بآفة وبقيت واحدة لم يجز وفي الابل والبقران ذهبت واحدة يجوز او اثنتان لا، وذكر فيها جواز التي لا ينزل لها لبن من غير علة وفي التتارخانية: والشطور لا تجزئ، وهي من الشاة ما قطع اللبن عن احدى ضرعيها ومن الابل والبقر ما قطع من ضرعيها، لان لكل واحد منھما اربع اضرع“ ترجمہ : اگر بکری اور بھیڑ کے دو تھنوں میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.