Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بغیر سینگ والے جانور کی قربانی جائز ہے؟

Fatwa no.
163-Book

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس ایک گھر کا پالا ہوا بکر اہے۔ جب وہ پیدا ہوا تھا، تو اسی وقت یہ نیت تھی کہ اس کی قربانی کروں گا۔ ابھی وہ تقریباً آٹھ ماہ کا ہو چکا ہے اور بڑی عید تک ایک سال سے زیادہ عرصے کا ہو جائے گا، لیکن ابھی تک اس کے سینگ نہیں نکلے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی جگہ کسی اور کی قربانی کر دیں، کیونکہ اس کے سینگ نہیں نکلے۔ براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ جس بکرے کے سینگ نہ ہوں کیا اس کی قربانی نہیں ہوتی ؟ اگر نہیں ہوتی تب بھی بتا دیں، تا کہ میں اس کی جگہ کسی اور بکرے کی قربانی کرلوں۔

Answer (beginning)

جس بکرے کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، جبکہ اس میں قربانی کی دیگر شرائط موجود ہوں۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب الہدایہ میں ہے: " ويجوزان يضحى بالجماء وهي التي لا قرن لها ، لان القرن لا یتعلق به مقصود “ ترجمہ : جماء کی قربانی جائز ہے اور جماء ایسا جانور کہلاتا ہے ، جس کے سینگ نہ ہوں، کیونکہ سینگوں کے ساتھ مقصود کا تعلق نہیں ہوتا۔ (الہدایہ، کتاب الاضحیه، ج4، ص448، مطبوعہ لاہور) اور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه ارشاد فرماتے ہیں: ”جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، اس کی قربانی جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.