Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ہرن کی قربانی جائز ہے؟

Fatwa no.
162-Book
Issued
41 جمادی الثانی 1437ھ / 42 مارچ 2016ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے گھر میں ہرن پالی ہوئی ہے ، اس کی قربانی ہو سکتی ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

قربانی صرف گھر یلو پالتو جانوروں کی جائز ہے، اس کے علاوہ وحشی جانور جیسے ہرن، جنگلی گائے، بیل اور نیل گائے وغیرہ کی قربانی جائز نہیں، اگر چہ ان کو کسی نے گھر میں پال رکھا ہو۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” لا يجوز في الأضاحي شئ من الوحشي فإن كان متولداً من الوحشى و الأنسى فالعبرة للأم فإن كانت أهلية تجوز وإلا فلا، حتى لو كانت البقرة وحشية والثور أهلياًلم تجز “ وحشی جانوروں میں سے کسی کی قربانی جائز نہیں، اگر کوئی جانور وحشی اور گھر یلو جانور کے ملنے سے پیدا ہوا ہے ، تو اعتبار مادہ جانور کا ہے ، اگر مادہ گھر یلو ہے ، تو قربانی جائز ہے ، ورنہ نہیں، حتی کہ اگر گائے جنگلی ہو اور بیل گھر یلو ہو ، تو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.