Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گھر کے کئی افراد کی قربانی میں ہر بکری کا تعین ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 160-Book
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گھر کے پانچ افراد نے قربانی کرنی ہو اور وہ پانچ بکریاں خریدیں، تو کیا معین کرناضروری ہے کہ فلاں بکری فلاں کی طرف سے ہے یا صرف اتنی نیت بھی کافی ہے کہ یہ پانچ بکریاں ہم پانچ افراد کی طرف سے ہیں یعنی ہر ایک کی طرف سے ایک بکری، تو کیا اس نیت سے قربانی کریں، تو قربانی ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں یہ معین کرناضروری نہیں کہ فلاں بکری فلاں کی طرف سے ہے ، بلکہ صرف اتنی نیت ہی کافی ہے کہ یہ پانچ بکریاں اس طور پر ہم پانچ افراد کی طرف سے قربان کی جارہی ہیں کہ ہر فرد کی طرف سے ایک بکری ہے، لہذ پوچھی گئی صورت میں سب کی قربانیاں ہو جائیں گی۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” عن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالى رجل له تسعة من العيال وهو العاشر فضحى بعشر من الغنم عن نفسه وعن عياله ولا ينوى شاة بعينها لكن ينوى العشرة عنهم وعنه جاز في الاستحسان وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالی کذا فی المحیط “ ترجمہ : امام ابویوسف علیہ الرحمة سے روایت ہے کہ ایک شخص کے اہل و عیال کے نو افراد ہیں اور وہ خود دسواں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.