Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا پرائز بانڈز کی رقم سے قربانی کرنا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 159-Book
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حکومت پاکستان کے جاری کردہ پر ائز بانڈ ز جائز ہیں یا نہیں ؟ اگر جائز ہیں تو قرعہ اندازی کے ذریعے نکلنے والی رقم سے حج ، عمرہ، مسجد کی تعمیر یا قربانی وغیرہ نیک کام کیے جاسکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
چالیس ہزار روپے والا جو پریمیم پرائز بانڈ گور نمنٹ نے جاری کیا ہے ، وہ سودی ہے اور ناجائز ہے، جب کہ اس کے علاوہ آج کل رائج عام پرائز بانڈز خریدنا، پاس رکھنا، ان کی خرید و فروخت کر نا اور اس پر قرعہ اندازی کے ذریعے نکلنے والی رقم لیناشر عا جائز ہے کہ یہ رقم تحفہ اور انعام ہے ، یہ جو ا اور سود نہیں ہے اور سود کے حکم میں بھی نہیں ہے ،لہذا اس رقم کو خود اپنے استعمال میں بھی لا سکتے ہیں اور اس کو کسی بھی جائز کام مثلاً حج ، عمرہ، مسجد کی تعمیر اور قربانی وغیرہ میں استعمال کر سکتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.