Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا صاحب نصاب نابالغ پر قربانی واجب ہے؟

Fatwa no.
156-Book

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا بیٹا جو چھ سال کا ہے ، ہم نے عرصہ چار ماہ قبل اس کے لیے تقریباً نو تولے سونے کا سیٹ یہ سوچ کر بنوایا تھا، کہ جب اس کی شادی کریں گے ، اُس وقت ضرورت ہوئی، تو بیچ کر رقم استعمال کر لیں گے اور ضرورت پیش نہ آئی تو یہی زیور آنے والی بہو کو ڈال دیں گے اور ان دنوں میں میں بھی مالک نصاب ہوں اور مجھے پر قربانی واجب ہو گی، آیا اپنی قربانی کے ساتھ مجھے اپنے بیٹے کی طرف سے بھی قربانی کرنی ہوگی (جبکہ وہ تقریبا نو تو لے زیور کا مالک ہے)، براہ کرم رہنمائی کی جائے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں نہ آپ کے بیٹے پر قربانی واجب ہے اور نہ ہی اس کی طرف سے آپ پر ، کیونکہ آپ کا (چھ سالہ) بیٹا نا بالغ ہے اور قربانی نابالغ پر واجب نہیں اور نہ ہی اُس کی طرف سے اُس کے والد پر واجب ہے۔ ہاں! اگر اُس کی طرف سے اپنے مال سے کریں، تو افضل ہے اور ثواب کے مستحق ہوں گے۔ تنویر الابصار اور در مختار میں ہے: ”(فتجب علی حرمسلم مقیم موسر عن نفسه لا عن طفله) على الظاهر “ ترجمہ : ( پس آزاد، مسلمان، مقیم، خوشحال پر اپنی طرف سے (قربانی) واجب ہے ، نہ کہ اپنے چھوٹے بچے کی طرف سے ظاہر الروایہ کے مطابق۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.