Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بس میں سفر کرتے ہوئے نماز کا وقت آجائے توکیا حکم ہے؟

Fatwa no.
151-Book
Issued
16 محرم الحرام 1429ھ / 26 جنوری 2008 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض اوقات بس میں نماز کا ٹائم ہو جاتا ہے، تو کیا بس میں نماز پڑھ کر شرعی مسافر اپنے مقام پر پہنچ کر اس نماز کو ادا کر سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

عموماً نماز کے ٹائم میں بسیں کسی مخصوص مقام پر روکی جاتی ہیں، لہذا جہاں بس رکے وہاں نماز ادا کر لیں اور اگر بس نہ رکے اور نماز کا وقت بھی ختم ہو رہا ہو ، تو بس ڈرائیور کو نماز کا کہہ کر بس رکوالیں اور نماز ادا کر لیں اس طرح اپنے مقام پر جاکر دوبارہ اس نماز کو ادا کرنے کی حاجت نہیں کہ جب سفر کرنے والے مسلمان ہیں، ڈرائیور مسلمان ہیں، یہ ملک مسلمانوں کا ہے، تو کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ نماز کے لیے چند منٹ کے لیے کسی جگہ گاڑی روک کر نماز ادا نہیں کی جاسکتی؟ اگر نہ رکنے کا شبہ ہو، تو پہلے بات کر لیں کہ فلاں نماز کا وقت آئے تو آپ کو گاڑی روکنی ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.