Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سفر میں سنتوں کا حکم، نیز حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات میں تطبیق

Fatwa no.
150-Book

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) مسافر شرعی کے لیے نماز کی سنتوں کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟ (2) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں: "لو أتيت بالسنن في السفر لأتممت الفريضة“ یعنی: سفر میں اگر میں نے سنتیں ادا کرنی ہو تیں، تو میں فرض نماز ہی پوری پڑھ لیتا“ اس فرمان کا کیا محمل ہے ؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

(1) مسافر شرعی کو حالت خوف و اضطرار میں سنتیں معاف ہیں اور حالتِ امن و قرار میں سنتیں پڑھی جائیں، اگر چہ سنتوں کا تاکہ جو حضر میں ہے وہ سفر میں نہیں رہتا، کہ سفر خود ہی مشقت کے قائم مقام ہے، البتہ فجر کی سنتیں کہ یہ قریب بواجب ہیں، سفر کی وجہ سے انہیں ترک کرنے کی اجازت نہیں اور بعض ائمہ کا قول یہ بھی ہے کہ مغرب کی سنتیں بھی ترک نہ کرے، کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر و حضر کہیں بھی انہیں ترک نہیں کیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.