Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافرکو جماعت مل جائے توقصر بہتر ہے یا جماعت؟ نیز جمعہ و عیدین کاحکم؟

Answered by
مفتی فضیل رضا عطاری
Fatwa no.
149-Book

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ اگر مسافر کو صحیح جماعت مل جائے ، تو اس کے لیے قصر کرنا بہتر ہے یا جماعت سے پڑھنا؟ جمعہ و عیدین کا کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں اگر شرعی مسافر رواروی کی حالت میں نہ ہو ، بلکہ مطلوبہ مقام پر پہنچ گیا، تو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ باجماعت نماز پڑھے ، لیکن اگر کوئی نہیں پڑھے ، تو اسے ترک جماعت کی وجہ سے گنہ گار نہیں کہا جائے گا کہ مسافر کے حق میں جماعت کا وہ تاکیدی حکم نہیں رہتا، جو مقیم کے حق میں ہے جیسا کہ سنت مؤکدہ کا مسافر کے حق میں وہ تاکیدی حکم نہیں رہتا، جو مقیم کے لئے ہے ، ہاں جو مقتد او پیشوا ہو اس کے لئے حد درجہ نامناسب بات ہے کہ مسافر ہونے کی وجہ سے وہ حاضری مسجد و جماعت ترک کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.