Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر کے لیے جمعہ کا کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 147-Book
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسافر کو جس مقام پر جانا ہے وہاں پہنچ جائے اور جمعہ پڑھنا چاہے ، تو کیا امام کے پیچھے جمعہ پڑھ سکتا ہے یا ظہر پڑھے گا؟
Answer (beginning)
جی ہاں ایسا شخص جمعہ پڑھ سکتا ہے اور جمعہ پڑھنا اس کے لیے افضل ہے۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ”جمعہ واجب ہونے کے لیے گیارہ شرطیں ہیں۔ ان میں سے ایک بھی معدوم ہو، تو فرض نہیں پھر اگر پڑھے تو ہو جائے گا، بلکہ مرد عاقل بالغ کے لئے جمعہ پڑھنا افضل ہے۔ پہلی شرط لکھتے ہیں شہر میں مقیم ہونا۔“ بہار شریعت ، جلد 1، صفحہ 770، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) علامہ علاؤالدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ جمعہ کے فرض ہونے کی شرائط لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: ” ان اختار العزيمة وصلاها وهو مكلف بالغ عاقل وقعت فرضا عن الوقت اگر اس نے عزیمت کو اختیار کیا اور جمعہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.