Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافر کے لیے نمازِ مغرب میں قصر کرنے، نیز سنتوں اوروتر کا حکم؟

Fatwa no.
146-Book
Issued
07 رمضان المبارک 1437ھ /13 جون 2016ء

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی سفر کی مسافت کتنی ہے ؟ نیز سفر کے دوران سنتیں پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ اور مغرب کے فرضوں میں قصر کیسے ہو گی ؟ سفر کے دوران و ترکی نماز چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer (beginning)

تین دن رات کی پیدل یا اونٹ وغیرہ کی سواری کی متوسط مسافت کی مقدار متصل سفر شرعی سفر کہلاتا ہے اور اتنی مقدار میں متصل سفر کرنے والا شخص شرعی مسافر کہلاتا ہے ، آج کل کے حساب سے اس کی کم از کم مقدار بانوے کلو میٹر بنتی ہے، لہذا اگر بانوے کلو میٹر یا اس سے زیادہ متصل سفر کی نیت سے کوئی شخص اپنے علاقے کی آبادی سے باہر نکلے تو وہ شرعی مسافر کہلائے گا، اس کے بعد جب تک کہیں پر پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کرے یا اپنے وطن اصلی میں داخل نہ ہو ، مسافر ہی رہے گا، اس دوران نمازوں میں قصر واجب ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.