Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدی سجدۂ سہو کرے یا نہیں؟

Fatwa no.
144
Issued
08 جمادی الاولیٰ 1445ھ / 23 نومبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر مقیم شخص مسافر امام کے پیچھے نماز ادا کر رہا ہو اور امام پر سجدہ سہو واجب ہو جائے، تو کیا اس کی اقتدا میں مقیم مقتدی بھی سجدہ سہو کرے گا؟

Answer (beginning)

مقیم مقتدی کے لیے مسافر امام کے پیچھے سجدہ سہو کرنے کا وہی حکم ہے، جو مسبوق کا حکم ہے یعنی وہ امام کے ساتھ سلام پھیرے بغیر ، سجدہ سہو کرے گا۔ یادر ہے اگر اس نے جان بوجھ کر امام کے ساتھ سلام پھیر دیا، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، اور اس کو دوبارہ نماز پڑھنی ہو گی، اور اگر بھولے سے امام کے ساتھ سلام پھیرا، تو اس صورت میں چاہے بالکل امام کے ساتھ سلام پھیر اہو یا امام کے سلام سے پہلے یا بعد میں سلام پھیر اہو ، بہر صورت اس کی نماز ہو جائے گی اور کسی صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.