Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافر مقیم امام کے پیچھے آخری دو رکعت میں شامل ہو تو بقیہ کتنی رکعت پڑھے گا ؟

Fatwa no.
142
Issued
07 جمادی الاولی 1445ھ / 22 نومبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ چار رکعت والی نماز میں مسافر شرعی اگر شروع نماز سے امام مقیم کی اقتدا نہ کر سکا، بلکہ آخری دور کعتوں میں شامل ہوا، تو کیا اس صورت میں بھی اس پر چار رکعتیں پڑھناضروری ہوں گی یا امام کے ساتھ سلام پھیر دے گا؟

Answer (beginning)

کعتیں مسافر شرعی پر اگر چہ نماز میں قصر کرنا واجب ہوتا ہے، لیکن اگر نماز کے وقت میں وہ متقیم امام کی اقتدا کر لے چاہے کسی بھی رکعت میں ، تو اس اقتدا کی وجہ سے اس کے فرض تبدیل ہو جاتے ہیں یعنی دو کی بجائے اب اس پر چار رک پڑھناضروری ہو تا ہے ،لہذ اجو مسافر شرعی آخری دور کعتوں میں امام متقیم کی اقتدا کر لے ، تو اس پر مزید دور کعتیں پڑھنی ضروری ہے ، امام کے ساتھ سلام نہیں پھیر سکتا۔ در مختار میں ہے: " واما اقتداء المسافر بالمقيم فيصح في الوقت ویتم " اور بہر حال مسافر کا مقیم کی اقتدا کرنا، تو وقت میں اقتدا درست ہے اور چار رکعت مکمل پڑھے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.