Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر امام چار رکعتی نماز مکمل پڑھا دے، بعض مقتدی مقیم اور بعض مسافرتھے تو۔۔؟
- Fatwa no.
- 141
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مسافر امام نے چار رکعتی نماز مکمل پڑھا دی اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا، مقتدیوں میں بعض لوگ مقیم تھے اور بعض مسافر، کیا مقیم اور مسافر تمام مقتدیوں کی نماز ہو گئی یا نہیں؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں مسافر امام نے چار رکعتی نماز مکمل پڑھادی، تو جن مقیم مقتدیوں نے دور کعتوں کے بعد اس کی اقتدا جاری رکھی، ان کی نماز باطل ہو گئی اور ان پر اس نماز کی قضا لازم ہے ، جبکہ امام اور مسافر مقتدیوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر قعدہ اولیٰ میں بقدر تشہد بیٹھے تھے ، تو ان کی نماز ہو گئی مگر سلام میں تاخیر کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہوئی، عمداً ایسا کیا، تو گنہگار بھی ہوئے اور اگر قعدہ اولیٰ میں نہیں بیٹھے تھے، تو تمام نماز نفل ہو گئی اور فرض باطل ہو گئے، لہذ ا فرض نماز کو قضا کرنا ان کے ذمے لازم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.