Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
12 ماہ کا مدنی قافلہ کرنے والوں کے سفر سے متعلق مختلف احکام
- Fatwa no.
- 133
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ (1) بارہ ماہ میں سفر کرنے والے اسلامی بھائیوں کا سفر گھر سے شمار ہو گا ی تربیت گاہ سے ؟ اس دوران یعنی گھر سے تربیت گاہ تک جو نمازیں پڑھیں گے ان کی قصر ہو گی یا نہیں؟ (2) تربیت گاہ سے جب مدنی قافلے سفر کرتے ہیں، تو عموماً 12 دن کے لئے سفر ہو تا ہے اور اگر 30 دن کا قافلہ ہو ، تو بھی ایک شہر میں 15 دن قیام نہیں ہوتا، اس صورت میں نماز قصر ہو گی یا مکمل ؟ (3)12 ماہ والے اسلامی بھائی مدنی مرکز کے پابند ہوتے ہیں، خود سے قیام کی نیت نہیں کر سکتے ، مدنی مرکز جب چاہے سفر پر روانہ فرمادے، اس صورت میں نمازیں پڑھنے کے حوالے سے ان کے لیے کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
سوالات کے جوابات سے پہلے کچھ باتیں ذہن نشین کر لیں: ایک یہ کہ مسافر وہ ہوتا ہے جو اپنے گھر سے 92 کلو میٹر کے یکمشت سفر کی نیت سے اپنی بستی یا شہر سے نکل جائے۔ دوسری یہ کہ مسافر اگر کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کی نیت نہیں کرتا، تو وہ وہاں اور راستے میں نماز قصر کرے گا۔ چنانچہ الاختیار التعليل المختار میں ہے: ”ویصیر مسافرا إذا فارق بيوت المصرقاصدامسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشى الأقدام۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.