Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شرعی سفر کی حد کیا ہے؟ یہ کتنے کلو میٹر کا ہوتا ہے؟
- Fatwa no.
- 94
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی سفر کی حد کیا ہے ؟ یہ کتنے کلو میٹر کا ہوتا ہے ؟ میں جہاں جاتا ہوں میرے گھر سے وہ تیس سے پینتیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے کیا یہ شرعی سفر ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
شرعی سفر کی مقدار آج کل کے حساب سے بانوے کلومیٹر ہے، اگر بانوے کلومیٹر یا اس سے زیادہ دور متصل جانے کا ارادہ ہو تو اپنے شہر سے باہر نکلتے ہی سفر کے احکام شروع ہو جائیں گے۔ جس جگہ جارہے ہیں وہ وطن اصلی یا وطن اقامت نہیں، تو وہاں بھی قصر کرنی ہو گی، مسافر ہی رہیں گے۔ آپ نے سوال میں جو صورت ذکر کی ہے اس سے آپ شرعی مسافر نہیں بنتے، لہذا آپ پر مسافر والے احکام بھی نافذ نہیں ہوں گے کہ یہ شرعی سفر نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.