Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سحری کا وقت ختم ہوگیا اور نوالہ کھا لیا تو حکم؟
- Fatwa no.
- 22
- Issued
- 07 رمضان المبارک 1442ھ /20 اپریل 2021ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ فیضان رمضان میں یہ مسئلہ ہے کہ سحری کا نوالہ منہ میں تھا کہ صبح طلوع ہو گئی یا بھول کر کھا رہا تھا، نوالہ منہ میں تھا کہ یاد آگیا اور نگل لیا تو دونوں صورتوں میں کفارہ واجب، مگر جب منہ سے نکال کر پھر کھایا ہو تو صرف قضا واجب ہو گی کفارہ نہیں۔ اس مسئلہ کے حوالہ سے یہ ار شاد فرمائیے کہ منہ سے نکالے بغیر نگل لیا تو کفارہ واجب ہے اور منہ سے نکال کر پھر کھایا تو صرف قضا ہے کفارہ نہیں، حکم میں فرق کیوں ہے؟
Answer (beginning)
پہلی صورت میں کفار و اس لئے واجب ہے کہ جب تک لقمہ منہ میں ہے تو اسے لذت کے طور پر کھایا جاتا ہے اور دوسری صورت میں فقط قضا ہے، کفارہ نہیں، اس لئے کہ لقمہ منہ سے نکالنے کے بعد بطورِ لذت نہیں کھایا جاتا بلکہ طبیعت اس کے کھانے سے پر ہیز کرتی ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) دام الا الملت www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.