Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جمعۃ الوداع کو قضائے عمری کی چار رکعتوں کی حقیقت

Fatwa no.
58
Issued
07 رمضان المبارک 1442ھ /20 اپریل 2021ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رمضان شریف کے مہینے میں جمعۃ الوداع کو چار رکعتیں قضائے عمری کی ادا کی جاتی ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے گزشتہ تمام نمازیں ادا ہو جاتی ہیں، کیا شر عایہ درست ہے ؟ اور اس بارے میں ایک روایت بھی بیان کی جاتی ہے، کیا وہ درست ہے؟

Answer (beginning)

جمعہ الوداع میں قضا عمری کے طور پر چند رکعات ادا کر کے یہ سمجھنا کہ سابقہ تمام قضا شدہ نمازیں ادا ہو جاتی ہیں، باطل محض اور بد ترین بدعت ہے۔ اس پر جور وایت پیش کی جاتی ہے، موضوع یعنی من گھڑت ہے۔ قضا نماز میں ادا کرنے کا یہ طریقہ کار حدیث مبارک کے خلاف ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز بھول گیا، تو جب یاد آئے ، ادا کر لے۔ ادائیگی کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں۔ یو نہی یہ طریقہ اجماع کے بھی خلاف ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.