Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آنے کی شرائط
- Fatwa no.
- 28
- Issued
- 07 رمضان المبارک 1442ھ / 20 اپریل 2021ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آنے کے حوالے سے مکمل ضابطہ کیا ہے؟
Answer (beginning)
رمضان مبارک میں روزہ دار مکلف مقیم نے ادائے رمضان کا روزہ رکھا، جس کی نیت رات سے کی تھی اور بغیر جبر و اکراہ شرعی اور بھول کے کسی آدمی کے ساتھ جو قابل شہوت ہے، اُس کے آگے یا پیچھے کے مقام میں جماع کیا ، انزال ہوا ہو یا نہیں یا اس روزہ دار کے ساتھ جماع کیا گیا یا اس روزے دار نے بغیر عذر صحیح اور بغیر جبر و اکراہ شرعی اور بھول کے کوئی غذا بیاد و اکھائی یا پانی پیایا کوئی نفع رساں چیز کھائی، یا کوئی چیز لذت کے لیے کھائی یا پی یا کوئی ایسا فعل کیا جس سے افطار کا نگمان نہ ہوتا ہو اور اس نے گمان کر لیا کہ روزہ جاتارہا پھر قصد نهایی لیا تو ان سب صورتوں میں روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں، البتہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.