Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوٹی پارلر کے لیے دکان کرائے پر دینا کیسا ؟

Fatwa no.
84
Issued
23 ربیع الثانی 1443ھ /29 نومبر 2021ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عورت کالیڈیز بیوٹی پارلر کھولنا کیسا ہے؟ نیز کیا بیوٹی پارلر کے لیے جگہ کرایہ پر دے سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

بیوٹی پارلر میں دو طرح کے کام ہوتے ہیں : (1) صرف زینت و خوبصورتی کے لئے آئی بروز (Eyebrows) بنانا، مردانہ اسٹائل کے بال کاٹنا، ران (Thigh) کے بالوں کی صفائی کرنا، بالوں کو سیاہ رنگ یا سیاہ خضاب کرنا، یہ گناہ والے کام ہیں اور ان کاموں کے علاوہ خارجی طور پر ایسے مقام پر یاکسی بھی مقام پر موسیقی (Music) چلانا، عورتوں کی بے پردگی، جاذب نظر اور پرنٹ تصاویر لگانا بھی ناجائز ہے۔ (2) چہرے کے زائد بالوں کی صفائی، کریمز (Creams)، پاؤڈر اور آئی شیڈز (Eye Shades) وغیرہ کے ذریعے میک آپ کر کے چہرے کو خو بصورت بنانا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.