Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کی دکان بیوٹی پارلر کے لیے کرائے پر دینے کا حکم

Fatwa no.
80

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ مسجد کی دکانوں میں ایک دکان بیوٹی پارلر کے کام کے لئے دی گئی ہے اور وہاں دکان پر نمایاں طور پر بیوٹی پارلر کی تشہیر کے لئے کچھ عورتوں کی تصاویر کے سائن بور ڈوغیرہ بھی لگائے گئے ہیں تو معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ کام کرنا اور اس کام کے لئے مسجد کی دکان کرائے پر دینا اور تصاویر لگا ناشر عاکیا حکم رکھتا ہے؟

Answer (beginning)

میک اپ کرنا یا اس پر اجرت لینا ایک جائز کام ہے جبکہ خلاف شرع کاموں سے اجتناب کیا جائے۔ بیوٹی پارلر میں جائز و ناجائز دونوں قسم کے کام ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر وہاں ہونے والے کاموں میں ناجائز کام درج ذیل ہیں : (1) آئی بروز بنوانا۔ حدیث شریف میں اس کام پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ (2) مردانہ طرز کے بال کاٹنا۔ حدیث شریف میں مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی گئی ہے (3) رانوں کے بالوں کی صفائی کرنا۔ ایک عورت کے لئے دوسری عورت کی ناف سے گٹھنے سمیت جسم کے حصوں کا پردہ ہے بلا ضرورت شرعیہ ان کو دیکھنا یا چھونا جائز نہیں۔ (4) بالوں میں سیاہ رنگ کا خضاب کرنا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.