Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوٹی پارلر کی کمائی حلال ہے یا حرام ؟

Fatwa no.
77

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بیوٹی پارلر کا کام کرنا، جائز ہے یا نہیں اور اس کی کمائی کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

بیوٹی پارلرز میں بہت سے خلاف شرع امور کئے جاتے ہیں، جیسے خوبصورتی لانے کے لیے آئی بروبنانا جس میں بھنوؤں کے بالوں کو اکھیڑ ا جاتا ہے اور عورتوں کے بھنووں کے بالوں کو اکھیڑنے یا اکھٹروانے کو حدیث شریف میں باعث لعنت قرار دیا گیا ہے، مردوں کی طرح عورتوں کے بال چھوٹے چھوٹے کاٹے جاتے ہیں جس سے عورت مرد کے مشابہ معلوم ہوتی ہے اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت والا یہ کام بھی باعث لعنت ہے، عورت کا مرد کی تزیین یا مرد کا عورت کی تزیین کرناوغیرہ، البتہ ان میں بعض کام جائز بھی ہوتے ہیں مثلاً چہرے کے زائد بالوں کی صفائی، مختلف کر یمنر اور آئی شیڈز وغیرہ کے ذریعہ میک اپ کر کے چہرے کو خوبصورت بنانا، سیاہ مائل…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.