Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
استعمال کے زیورات پر زکوۃ فرض ہوگی؟
- Fatwa no.
- 73
- Issued
- 13 رمضان المبارک 1442ھ /26 اپریل 2021ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خواتین کے سونے چاندی کے استعمالی زیورات پر زکوۃ لازم ہے یا نہیں نیز یہ بتادیں زیورات حاجت اصلیہ میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں ؟
Answer (beginning)
سونے چاندی کے استعمالی زیورات پر اگر شرائط زکوۃ پائی جائیں تو زکوۃ لازم ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ کے قوانین کی روشنی میں سونا چاندی شمن اصلی ہیں، لہذاوہ زیورات کی شکل میں ہوں یاڈلی کی صورت میں یا بر تنوں کی شکل میں، استعمال میں ہوں یا فارغ ہوں ، ہر صورت میں شرائط ز کوۃ پائے جانے کی صورت میں زکوۃ فرض ہوگی، نیز زیور پہنا حاجت اصلیہ میں شامل نہیں۔ نور الایضاح میں ہے : ” فرضت علی حر مسلم مکلف مالک لنصاب من نقد ولوتبراًاوحلياً اوانية“ ترجمہ : زکوۃ ہر اس آزاد مسلمان مکلف پر فرض ہے جو نقدی میں سے نصاب کا مالک ہوا گرچہ وہ سونا، چاندی ڈلی کی صورت میں ہو ، زیورات کی صورت میں ہو یا برتنوں کی صورت میں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.