Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوٹی پارلر کے میک اپ کے سامان پر زکوۃ کا حکم؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
72

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بیوٹی پارلر میں میک اپ کے لئے رکھے ہوئے سامان کہ جس سے دلہا، دلہن وغیرہ کو تیار کیا جاتا ہے، اس پر زکوۃ لازم ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

جواب جاننے سے قبل تمہیداًیہ قاعدہ سمجھ لیجئے کہ پیشہ وروں کے پاس کام میں استعمال ہونے والے آلات یا سامان تین طرح کا ہوتا ہے۔ (1) جسے باقی رکھ کر نفع اٹھایا جاتا ہے۔ (2) جسے ہلاک کر کے نفع اٹھایا جاتا ہے اور کام میں اس کا عین یا اثر باقی نہیں رہتا۔ (3) جسے ہلاک کر کے نفع اٹھایا جاتا ہے، لیکن کام میں اس کا عین یا اثر باقی رہتا ہے۔ ان میں سے پہلی دو قسموں کے سامان پر زکوۃ واجب نہیں، جبکہ تیسری قسم کے سامان پر زکوۃ واجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.