Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آرٹیفیشل زیورات پر زکوۃ کا حکم؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری فتوی نمبر: 71
Fatwa no.
71

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آرٹیفیشل زیورات پر زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

آرٹیفیشل زیورات اگر تجارت کی غرض سے رکھے ہوں، تو ان پر دیگر شرائط کی موجودگی میں زکوۃ فرض ہو گی۔ البتہ اگر تجارت کے لئے نہ ہوں، بلکہ استعمال کرنے یا کسی اور مقصد کے لئے رکھے ہوں، تو ان پر زکوۃ لازم نہیں ہو گی، اگرچہ ان کی مالیت بہت زیادہ ہو، کیونکہ زکوۃ فقط تین قسم کے اموال پر لازم ہوتی ہے۔(1) شمن یعنی سونا، چاندی ( تمام ممالک کی کرنسیاں اور پرائز بانڈز بھی اسی میں شامل ہیں)۔ (2) مالِ تجارت یعنی ایسا مال جو بیچنے کی نیت سے خریدا جائے۔ (3) سائمہ یعنی چرائی پر گزارا کرنے والے جانور جن سے مقصود دودھ ، نسل یا فربہ کرنا ہوتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.