Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹیپ کے ذریعے چپکی ہوئی وگ پر مسح کا حکم
- Fatwa no.
- 63
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں سر پر مصنوعی بالوں کی وگ استعمال کرتا ہوں، اور یہ وگ میں کسی طبی علاج کے لئے استعمال نہیں کرتا بلکہ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے گنج پن اچھا نہیں لگتا۔ اس وگ کی بناوٹ یوں ہے کہ موٹے کپڑے کی جالی پر مصنوعی بال لگے ہوئے ہوتے ہیں، اس جالی سے رس رس کر پانی سر تک پہنچ سکتا ہے ،اس جالی کو سر پر روکنے کے لئے سر کے گرد ایک ٹیپ ہوتا ہے جس کے دونوں طرف چپک ہوتی ہے ، اوپر کی طرف سے وہ ٹیپ جالی کو چپکا ہوتا ہے اور نیچے کی طرف سے سر کو چپکا ہوا ہوتا ہے ، اس ٹیپ کے نیچے پانی نہیں جاسکتا، تقریباً تین ہفتے تک وہ جالی ٹیپ کے ذریعے میرے سر پر رہتی ہے، تین ہفتے کے بعد اس ٹیپ کی چپک ختم ہونے لگتی ہے اور وہ ٹیپ خود بخود اترنے لگتا ہے ، پھر اس ٹیپ کو اتار دیا جاتا ہے اور وگ کو شیمپو وغیرہ کے ذریعے واش کر کے دوبارہ دوسرے ٹیپ کے ذریعے سر پر لگایا جاتا ہے، تین ہفتوں سے پہلے اس ٹیپ کی چپک کافی مضبوط ہوتی ہے ، اس دوران اگر اس کو اتار اجائے تو سر کی جلد کو زخمی کر کے اترے گی اور پھر ٹیپ والی جگہ پر کافی جلن بچے گی اور پھر دوبارہ نئے سرے سے وگ لگانا پڑے گی۔ اگر وضو یا غسل میں مذکورہ وگ کو نہ اتارا جائے اور اسی پر وضو میں مسح یا غنسل میں پانی ڈال دیا جائے تو کیا وضو یا غسل ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ وگ پر وضو کے دوران اگر اس قدر پانی ڈالا جائے کہ اس پانی کی نمی وگ سے سرایت کر کے سر کے چو تھائی حصے کو پہنچ جائے، تو مذکورہ وگ کے سر پر ہوتے ہوئے وضو ہو جائے گا، اور اگر پانی کی نمی وگ سے سرایت کر کے سر کے چوتھائی حصے کو نہ پہنچے ، تو وضو نہیں ہو گا۔ ہاں اگر مذکورہ وگ سے سر کا چوتھائی حصہ خالی ہے اور اس خالی حصے پر مسح کر لیا جائے، تو بھی وضو ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.