Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو و غسل کے بعدمعلوم ہوا کہ نیل پالش لگی رہ گئی، تو جو نماز پڑھی اس کا حکم
- Fatwa no.
- 61
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ کسی اسلامی بہن نے ناخن پالش لگائی ہوئی تھی، اسے اپنی طرف سے صاف کر کے وضو یا غسل کیا اور نماز بھی پڑھ لی، پھر توجہ گئی، تو معلوم ہوا کہ ناخن پالش صحیح طور پر نہیں اتری تھی، جس وجہ سے پانی ناخن تک نہیں پہنچا، تو اس صورت میں اُس پڑھی گئی نماز کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں وہ نماز ادا ہو گئی۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر جسم پر کوئی ایسی چیز لگی ہو کہ جس کی آدمی کو عموماً یا خصوصا ضرورت پڑتی ہو اور اسے تکلیف اور ضرر کے بغیر اتار نا ممکن ہو ، لیکن اس کی دیکھ بھال کرنے ، اس کے لگے ہونے یا نہ لگے ہونے پر مسلسل توجہ رکھنے ، اس سے بچنے اور احتیاط کرنے میں حرج واقع ہوتا ہو جیسے سرمے کا جرم ( تہہ ) ، پکانے و گوندھنے والوں کے لئے آٹا، کاتب یعنی لکھنے والے کے لئے سیاہی کا جرم اور عورتوں کے لئے مہندی کا جرم وغیرہ (چونکہ یہ سب چیزیں ایسی ہیں کہ یا تو ہر آدمی کو یا بعض مخصوص افراد کو عموماً یا خصوصا ان چیزوں سے واسطہ رہتا ہے اور ان سے بچنے یا مکمل طور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.