Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آنکھوں میں لینز لگے ہوں، تو وضو اور غسل کا حکم

Fatwa no.
59

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر آنکھوں میں لینز لگے ہوئے ہوں تو کیا وضو و غسل کے لئے ان کو اتارنے کی حاجت ہے کہ نہیں؟

Answer (beginning)

وضو و غسل کے لئے لینز کا اتار ناکچھ ضروری نہیں کیونکہ آنکھوں کا اندورنی حصہ وضو یا غسل میں دھونا فرض یاسنت بلکہ مستحب بھی نہیں ہے اور ویسے بھی اندر پانی پہنچانے سے بچنا چاہیے کہ یہ مضر ہے بلکہ زیادہ مبالغہ کیا جائے تو بینائی چلے جانے کا اندیشہ ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”وایصال الماء الى داخل العینین لیس بواجب ولا سنة ولا يتكلف في الاغماص والفتح حتى يصل الماء الى الاشفار وجوانب العینین ، یعنی آنکھوں کے اندر پانی پہنچا نا واجب بلکہ سنت بھی نہیں ہے اور آنکوں کو صاف کرنے اور کھولنے میں تکلف نہ کرے کہ پانی پلکوں کی جڑوں اور آنکھوں کے جانبوں میں پہنچے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.