Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امتحانات کے سبب رمضان کے روزے چھوڑنا کیسا؟

Fatwa no.
05

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رمضان المبارک موسم گرما میں آرہا ہے، کیا سالانہ امتحانات کی وجہ سے طلبا کار مضان کے فرض روزے قضا کرنا، جائز ہے ؟ نیز جو والدین بچوں کے اس فعل سے راضی ہوں یا خو دروزے چھڑوائیں، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

ہر عاقل و بالغ مسلمان پر رمضان کاروزہ فرض ہے، بلا عذر شرعی اس کا چھوڑ نا گناہ ہے اور سالانہ امتحانات یا گرمی شرعاً فرض روزہ چھوڑنے کا قابل قبول عذر نہیں ہیں، لہذا بالغ طلبا تو بیان کردہ اعذار کی بنا پر فرض روزہ چھوڑنے پر گنہگار ہوں گے ہی، ان کے والدین بھی اگر بلا عذر شرعی روزہ چھڑوائیں گے یا چھوڑنے پر باوجود قدرت پوچھ کچھ نہ کریں گے تو وہ بھی گناہگار ہوں گے۔ طالب علم کے نابالغ ہونے کی صورت میں اگر چہ اس پر روزہ فرض نہیں ہے اور بے عذر چھوڑے بھی تو گنہ گار نہ ہو گا، لیکن جب سات سال کے بچے کو روز در کھنے کی طاقت ہو تو والدین پر لازم ہے کہ اسے روزہ کا حکم دیں اور گیارہویں سال کے بعد والدین پر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.