Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حاملہ بیوہ کی عدت نیز دوسرا نکاح کب جائز ہوگا؟
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 203-Book
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم حاملہ بیوہ کی عدت کتنی ہے اور دوسری جگہ کب تک نکاح کر سکتی ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوا ہے اور وہ عورت حمل سے ہے معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کی عدت کتنی ہوگی ؟ اور اس کا دوسری جگہ نکاح کب تک کر سکتے ہیں ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں عورت کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہوگی، کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہوتی ہے اور عدت گزرنے یعنی بچہ پیدا ہونے کے بعد ہی اس کا دوسری جگہ نکاح ہو سکتا ہے ، عدت کے دوران نکاح حرام ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.