Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ایام مخصوصہ میں ایک کلمے کی جگہ دوکلمات پڑھائے جاسکتے ہیں؟

Fatwa no.
0104:Fmd

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ حائضہ عورت جو معلمہ ہو وہ اپنے مخصوص دنوں میں قرآن پاک کی تعلیم دیتے ہوئے سانس توڑ توڑ کر ایک ایک کلمہ پڑھا سکتی ہے تو اگر وہ دو کلمات پڑھالے تو اس میں کچھ حرج ہو گا؟

Answer (beginning)

حائضہ و نفساء اور جنب کے لئے بغرض تعلیم قرآن، بے نیت قرآن ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھانے کی ضرورت تار خصت و گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ تعلیم قرآن کا سلسلہ موقوف نہ ہو اور چونکہ ضرورت ایک ایک کلمہ سے پوری ہو جاتی ہے اس لئے زیادہ کلمات ایک سانس میں پڑھانے کی اجازت نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat daruliftaahlesunnat f DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.