Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
الیکٹریشن کا چیز کھول کر چیک کرنے کے پیسے لینا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ شعبان المعظم 1441ھ
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض الیکٹریشنز نے اپنی دکان پر لکھا ہوتا ہے کہ کوئی بھی چیز چیک کرنے کی پچاس روپے فیس ہوگی، پھر ا گر مالک وہ چیز بنوائے تو اس کا خرچہ بتا دیتے ہیں اور اس صورت میں کھول کر چیک کرنے کے الگ سے پیسے نہیں لیتے البتہ اگر مالک وہ چیز نہ بنوائے تو کھول کر چیک کرنے کے پچاس روپے لیتے ہیں اور خرابی (Fault) بتا کر ، وہ چیز بند کر کے واپس دے دیتے ہیں۔اس کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
چیز کھولنے اور چیک کرنے میں وقت بھی صرف ہوتا ہے اور آلات بھی استعمال ہوتے ہیں اور بعض لوگوں نے باقاعدہ ملازمین رکھے ہوتے ہیں ان کا بھی وقت لگتا ہے اور ان کو سیلری بھی دی جاتی ہے ، اس کھلوانے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ خرابی (Fault) بتائی جاسکے، ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف نٹ کھول کر بند کر کے واپس دے دے گا۔ لہذا یہ بھی باقاعدہ ایک ایسا کام ہے جس کی اجرت لی جاسکتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.