Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آبِ زم زم کو قبر یا کفن پر چھڑکنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ شعبان المعظم 1441ھ

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک عزیز کی خواہش ہے کہ ان کے انتقال کے بعد حصولِ برکت کے لئے آپ زم زم قبر یا کفن پر چھڑک دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ حصول برکت کے لئے آپ زم زم کو قبر یا کفن پر چھڑک سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer (beginning)

متبرک چیزوں سے برکت حاصل کرناشروع سے مسلمانوں میں رائج ہے ، بلکہ خود زم زم کو بھی برکت حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے نیز اس طرح کی روایات بھی ملتی ہیں کہ مسلمانوں حتی کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی متبرک چیزوں کو اپنے ساتھ قبر میں دفنانے کی وصیت کی۔ آبِ زم زم بھی بہت متبرک پانی ہے ، لہذا حصولِ برکت کے لئے زم زم کو قبر یا کفن پر چھڑک سکتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شُعب الایمان کی حدیث پاک ہے : عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ مَاءَ زَمْزَمَ فِي الْقَوَارِيرِ وَتَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ“ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.