Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مخصوص ایام میں معلمہ قرآن کی تعلیم کیسے دے؟
- Fatwa no.
- 0102:Fmd
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ معلمہ ایام مخصوص میں تعلیم قرآن کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے۔ اس مسئلے سے متعلق ایک صاحب نے کہا کہ ایسے میں معلمہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کلمہ کلمہ کر کے پڑھتے ہوئے وہ قرآن پاک کی نیت نہیں کرے گی۔ مجھے اس بات پر تعجب ہوا کیونکہ بہار شریعت میں اس مسئلے کو میں نے دیکھا تھا تو اس میں تو نیت وغیرہ کی کوئی قید نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ مذکور ہیں ” معلمہ کو حیض یا نفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر سائل: محمد شعیب (نارتھ کراچی) پڑھائے۔“
Answer (beginning)
آپ کو جو مسئلہ بتایا گیا وہ درست ہی بتایا گیا ہے، کہ معلمہ کو ایام مخصوصہ میں ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھانے کی اجازت ہے اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس طرح پڑھتے پڑھاتے وقت اس کی نیت، قرآن شریف پڑھنے کی نہ ہو اور اس قید کاذکر ا گرچہ بہار شریعت کی مذکورہ بالا عبارت میں نہیں کیا گیا لیکن اس عبارت سے بنیت قرآن پڑھنے کا بھی ثبوت نہیں ہوتا۔ تاہم بے نیت قرآن پڑھانے کی قید کا اضافہ ، متعدد فقہاء کرام نے واضح الفاظ میں اپنی کتب میں فرمایا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.