Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پانچوی رکعت کا سجدہ کرنے کے بعد ایک رکعت ملانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟

Fatwa no.
0087:Fmd

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ بعد ادا ئیگی نماز عصر کوئی نفل نماز وقت مغرب تک نہیں پڑھ سکتے لیکن کسی نے عصر کے فرض ادا کرتے ہوئے قعدہ اخیرہ کرنے کے بعد پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا ہو تو اس کو حکم ہے کہ وہ ایک رکعت مزید مع سجدہ سہو ادا کرے تاکہ آخری کی یہ دور کعتیں نفل ہو جائیں اور پچھلی چار رکعتوں سے عصر کے فرض ادا ہو جائیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جب عصر کے بعد نفل نماز پڑھنا منع ہے تو یہاں ایک رکعت اور پڑھنے کا کیوں کہا جارہا ہے ؟ سائل : عبد الماجد عطاری (نارتھ کراچی)

Answer (beginning)

عمومی حالات میں یہی حکم ہے کہ نماز عصر کے بعد ، وقت غروب آفتاب تک جو وقت ہے وہ نفل نماز کے لئے مکر وہ وقت ہے ،اس میں نفل نماز قصد اشروع کرنا جائز نہیں۔ جبکہ سوال میں جو صورت مذکور ہے اس میں نمازی نے پانچویں رکعت کو نقل کی نیت سے نہیں بلکہ عصر کی چوتھی رکعت سمجھ کر شروع کیا تھا جبکہ در حقیقت وہ چار رکعتیں عصر کی پہلے ہی ادا کر چکا تھا، تو اس طرح یہ رکعت زائد شروع ہوئی اور سجدہ کے ساتھ مقید بھی کر چکا تو اب یہ زائد رکعت بطور نفل متعین ہوئی اور نفل نماز چونکہ ایک رکعت نہیں ہوتی اس لئے نفل کی تعمیل کے لئے ایک رکعت اور ملائی گئی تاکہ وہ شفع ہو کر مکمل ہو سکے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.