Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گاؤں میں رہنے والا مسافر کب ہوگا؟
- Fatwa no.
- 1869-Web
- Issued
- 21 ربیع الاول 1446ھ / 26 ستمبر 2024ء
Question
مسافر جب اپنے شہر اور فنائے شہر سے باہر ہو جائے تب وہ مسافر شمار ہو گا، تو جو لوگ گاؤں میں رہتے ہیں، اُن کے لیے بھی یہی حکم ہو گا کہ اپنی تحصیل سے باہر ہونے پر مسافر ہوں گے یا پھر صرف گاؤں کی آبادی سے باہر ہونے پر مسافر ہو جائیں گے ؟
Answer (beginning)
مسافر ہونے کے لئے گاؤں میں رہنے والوں کا سفر شرعی کی نیت سے اپنے گاؤں سے باہر ہو جانا کافی ہے، تحصیل کا اعتبار نہیں۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” محض نیت سفر سے مسافر نہ ہو گا بلکہ مسافر کا حکم اس وقت سے ہے کہ بستی کی آبادی سے باہر ہو جائے شہر میں ہے تو شہر سے ، گاؤں میں ہے تو گاؤں سے اور شہر والے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ شہر کے آس پاس جو آبادی شہر سے متصل ہے اس سے بھی باہر ہو جائے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.