Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
واپسی کی شرط کے ساتھ چیز خریدنا اور بیچنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی علی اصغر صاحب مدظله العالی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاخری 1441ھ
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری دکان پر آکر ایک شخص کہتا ہے کہ یہ موبائل میں آپ کو 2500 روپے میں فروخت کرتا ہوں، اس شرط پر کہ ایک دو ماہ بعد میں 500 روپے اضافی دے کر 3000 روپے میں آپ سے خرید لوں گا۔ میں اس سے موبائل خرید کر اپنے پاس رکھ لیتا ہوں اور اس کے بدلے 2500 روپے اسے دے دیتا ہوں، ایک ڈیڑھ مہینے بعد وہ شخص واپس آکر مجھے 3000 روپے دیتا ہے اور میں اس کا موبائل اسے واپس کر دیتا ہوں۔ کیا میرا اس سے موبائل خرید کر رکھنا اور بعد میں وہی موبائل نفع لے کر اسی کو بیچنا جائز ہے ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ کا موبائل کے مالک سے کسی قسم کا نفع حاصل کرنا، جائز نہیں۔ لنا مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ آپ کی بیان کردہ صورت حقیقت میں رہن ہے کیونکہ آپ کے پاس آنے والے کو اپنی چیز بیچنا مقصود نہیں ہوتابلکہ عارضی طور پر پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ شخص آپ کے پاس موبائل گروی رکھوا کر آپ سے قرض لے کر چلا جاتا ہے اور بعد میں واپس آکر آپ کو اصل قرض کے ساتھ 500 روپے اضافی دیتا ہے جو کہ قرض پر نفع ہے اور حدیث پاک کے مطابق قرض پر نفع لینا سود ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کل قرض جرمنفعة فهوربا“ ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع لے کر آئے وہ سود ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.