Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پروڈکٹس کی تشہیر کے لئے اجارہ کرنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاخرى 1441ھ
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک کمپنی سے یہ معاہدہ کیا کہ میں اس کی جائز پروڈکٹس کی تشہیر (Advertisement)کروں گا اور اس کے لئے روزانہ مثلاً دو سو ای میل، دو سو میسیجز اور ایک سو واٹس ایپ کروں گا، اور ایڈز (ADS.) کے مواد کی مقدار بھی طے کر لی، اور یہ کہ میں اس کی اتنی اُجرت لوں گا۔ کیا میرا یہ اجارہ کرنا جائز ہے؟ جبکہ مجھے کمپنی کی پروڈکٹس کی تشہیر کے لئے ایڈ تیار کرنے اور پھر مذکورہ ذرائع سے عام کرنے میں میرا وقت اور کچھ رقم بھی صرف ہوتی ہے۔
Answer (beginning)
جائز چیزوں کا جائز طور پر ایڈ تیار کرنا اور پھر اسے جائز ذرائع سے عام کرنا ایک قابل اجارہ کام ہے۔لہذا سوال میں مذکور آپ کا اجارہ شرعاً جائز ہے کہ جس میں کمپنی کی جائز پروڈکٹس کی تشہیر کا ایک طے شدہ کام اور اس کی معلوم أجرت مقرر (Fix) ہے، جبکہ وہ اجرت مثل (یعنی جو عام طور پر ایسے کام کی اجرت ہوتی ہے، اس سے زائد نہ ہو، اور ایڈ کے مواد (Content) وغیرہ کی بھی ایسی مقدار (Quantity) طے کر لی کہ جس میں کسی طرح کا نزاع نہ ہو۔ جیسا کہ فقہائے کرام نے تحریر و کاغذ وغیرہ کی مقدار طے ہونے کی صورت میں وثیقہ نویسی اور مکتوب وغیرہ تحریر کرنے کی اجرت مثل جائز قرار دی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.