Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وطن اقامت کی نیت کرنے کے بعد دوسری جگہ سفرکرکے واپس وطن اقامت والے مقام پر آئے تو اب کیا نماز قصر ہو گی؟

Answered by
مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
0069:Fmd
Issued
27 ذوالحجہ 1437ھ/30 ستمبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ایک شخص نے مدینہ المنورہ زادھا اللہ شرفاو تعظیما میں متصل 20 دن رہنے کی نیت سے وطن اقامت اختیار کی لیکن پانچ دن سکونت اختیار کرنے کے بعد وہ عمرہ کرنے کی نیت سے مکہ المکرمہ چلا گیا اور پھر دو دن کے بعد دوبارہ 13 دن ٹھہرے رہنے کی نیت سے مدینہ پاک حاضر ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ شخص مدینہ پاک دوبارہ حاضر ہونے کے بعد مسافر والے احکام پر عمل کرتے ہوئے نمازوں میں قصر کرے گا یا نہیں؟ سائل : بلال عطاری (4-D ، نارتھ کراچی)

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں جب وہ شخص دوبارہ مدينة المنورة زادها لله شرفاو تعظیما میں 13 دن رہنے کی نیت سے حاضر ہوا تو وہ مسافر ہے اور اسے قصر نمازیں پڑھنے کا حکم ہے۔ وضاحت اس مسئلہ کی یہ ہے کہ پہلی بار جب شخص مذکور مدینہ پاک میں 20 دن رہنے کی نیت سے حاضر ہوا تو مدینہ المنورہ اس کا وطن اقامت (یعنی جہاں پندرہ یا اس سے زیادہ دن قیام کی نیت صحیحہ کرلی جائے ) ہو گیا تھا لیکن یہاں سے جیسے ہی سفر شرعی کر کے وہ مکتہ المکرمہ چلا گیا تو اس کا وطن اقامت ختم ہو گیا کہ سفر شرعی کے ذریعہ وطن اقامت باطل ہو جاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.