Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفلی اعتکاف توڑنے پر قضا کا حکم؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولی 1441ھ

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک اسلامی بہن ستائیسویں شب سے تین دن کی نیت سے اعتکاف میں بیٹھ گئی ، اس نے اعتکاف کی منت بھی نہیں مانی تھی، بس ایسے ہی نیت کر کے اعتکاف میں بیٹھ گئی، لیکن انتیسویں (29) روزے کو اسے حیض آیا، تو روزہ ٹوٹنے کی وجہ سے اعتکاف بھی ٹوٹ گیا، اب اس اعتکاف کی قضا کیسے کرنی ہوگی ؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں اعتکاف ختم ہونے کی وجہ سے اس کی قضا لازم نہیں ہوگی، کیونکہ مذکورہ اعتکاف مؤکدہ نہیں ہے کہ سنتِ مؤکدہ آخری دس دن کا ہوتا ہے اس سے کم کا نہیں ، اور اس کی منت بھی نہیں مانی تو یہ نفل ہوا اور مسجد بیت میں نفلی اعتکاف ہو سکتا ہے لہذا یہ اعتکاف نفلی ہے اور نفلی اعتکاف کی قضا لازم نہیں ہوگی۔ ردالمحتار میں عورت کے اعتکاف کے متعلق ہے: ”فلو خرجت منه ولو الى بيتها بطل الاعتكاف لو واجبا، ونتهى لو نفلا یعنی اگر عورت مسجد بیت سے نکلے اگرچہ اپنے گھر کی طرف تو اس کا اعتکاف اگر واجب ہوا تو ٹوٹ جائے گا ، اور نفل ہوا تو پورا ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.