Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ملازم کا خریداری میں زیادہ ریٹ بتاکر زائد رقم خود رکھ لینا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولی 1441ھ
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں کنسٹرکشن کے شعبے سے وابستہ ہوں، میرے ٹھیکیدار بعض اوقات مجھے طے شدہ کام سے ہٹ کر ریت یا بجری وغیرہ لینے بھیج دیتے ہیں جس میں کافی وقت صرف ہوتا ہے، مشقت بھی اٹھانی پڑتی ہے اور اس کا عوض بھی کچھ نہیں ملتا۔ کیا مجھے یہ اجازت ملے گی کہ میں 3000 میں ملنے والی چیز کا ریٹ 3500 بتا کر 500 روپے خود رکھ لیا کروں؟
Answer (beginning)
جی نہیں! پوچھی گئی صورت میں آپ کے لئے 500 روپے کی اضافی رقم لینا جائز نہیں کیونکہ یہ رقم آپ دھو کے سے حاصل کر رہے ہیں اور کسی کو دھوکہ دینا، ناجائز و گناہ ہے۔ شرعاً آپ پر لازم ہے کہ جتنی رقم خریداری میں خرچ ہوئی ، ٹھیکیدار کو اتنی ہی رقم بتائیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnot Dar-ul-Ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnot.net 同 DaruliftAhlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.