Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اجتماعی قربانی کی بچنے والی رقم معاونین کو دینا کیسا؟

Fatwa no.
0059:Fmd

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارے یہاں مدرسہ میں اجتماعی قربانی کا اہتمام ہوا جس کے جانور کی خریداری کے لئے ہمارا کراچی سے میر پور خاص جانا ہوا کیونکہ وہاں کم قیمت میں جانور مل جاتے ہیں اور اس کام میں ایک دن صرف ہوا۔ پھر قربانی کے بعد ہم نے آخراجات کا حساب کیا دیکھا گیا کہ کافی مقدار میں رقم بچ گئی تو جن لوگوں نے جانور لانے اور وزن کر کے گوشت تقسیم کرنے میں معاونت کی اور اپنا وقت دیا اُس باقی ماندہ رقم سے اُن کی اُجرت طے کی اور انہی کی اجازت سے وہ رقم مدرسہ میں دے دی جبکہ اُن کی اجرت پہلے مقرر نہ کی گئی اور قربانی فارم میں ان کو تنخواہیں دینے کا ذکر بھی نہیں تھا۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں؟

Answer (beginning)

سائل: محمد تنویر شرعی طور پر اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والے اُن حصے داروں کے وکیل ہوتے ہیں اور وکیل کے پاس جور تم ہوتی ہے وہ مؤکل کی ملکیت میں رہتے ہوئے اس کے پاس بطور امانت ہوتی ہے۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمہ الر حمن (متوفی 1340ھ) ارشاد فرماتے ہیں : ” اور وکیل امین ہے “(فتاوی رضویہ ، ج25، ص446،رضا فاؤنڈیشن، لاہور) لہذا صورت مسئولہ میں اجتماعی قربانی کرنے والوں نے بچی ہوئی رقم (جو امانت ہے) سے قربانی کے معاملہ میں معاونت کرنے والوں کی تنخواہیں مقرر کر کے اور اُن کی اجازت سے مدرسہ میں لگا کر امانت کی رقم میں خیانت کی ، اُن پر لازم ہے کہ تو بہ کے ساتھ ساتھ اتنی رقم بطور…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.